1 جولائی 2011 - 19:30

جمعیة الوفاق نے خلیفی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے سلسلے میں اپنے دلائل کا اعلان کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الوفاق کے مرکزی رکن «عبد علي محمد حسن» نے کہا: الوفاق مذاکرات کو اپنا مقصد نہیں سمجھتی بلکہ مذاکرات بحرینی ملت کے قومی اور قانونی حقوق کے حصول کا ایک راستہ ہے۔انھوں نے کہا: الوفاق کا مطالبہ یہ ہے کہ بحرین کو ایک منتخب حکومت ملنی چاہئے جو منتخب پارلیمان سے معرض وجود میں آئے اور یہ حکومت عوام کی حقیقی نمائندہ ہو۔ انھوں نے کہا: ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ معاشرے کے تمام باشندوں کے درمیان عدل و انصاف قائم ہو، امتیازی رویوں کا خاتمہ ہو اور ہم اپنے ان مطالبات پر سنجیدگی سے قائم ہیں اور حکومت کو بھی یہ مطالبات سنجیدہ لینے پڑیں گے۔ الوفاق کے ایک دوسرے راہنما کا مختلف موقفالوفاق کے ایک دوسرے اہم راہنما خلیل المرزوق نے الجزیرہ نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے مذاکرات کے حوالے سے خلیفی حکمرانوں کی سنجیدگی کو مشکوک قرار دیا اور خلیفی بادشاہ کی طرف سے قومی مذاکرات کے لئے بحرینی پارلیمان کے سربراہ "خلیفہ الظہرانی" کو مذاکرات کی سربراہی کا عہدہ سونپے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: یہ شخص مذاکرات میں شرکت کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ وہ بادشاہ سے بڑھ کر بادشاہ ہے اور اس کا رویہ آمرانہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110